مرے وجود کے اندر اِدھر اُدھر کچھ ہے
خبر نہیں یہ گماں ہے کہ ڈر مگر کچھ ہے
Related posts
-
ظہیر کاشمیری
ہمیں خبر ہے کہ ہم ہیں چراغِ آخرِ شب ہمارے بعد اندھیرا نہیں اُجالا ہے -
احمد ندیم قاسمی
کون کہتا ہے کہ موت آئی تو مر جاؤں گا میں تو دریا ہوں سمندر میں... -
